سید محمد اشرف کا ناول آخری سواریاں صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک تہذیبی مرثیہ ہے۔ یہ ناول ان قدروں، رشتوں اور جذبوں کا عکس ہے جو وقت کے ساتھ مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔ راوی اپنے بچپن کی یادوں کے سائے میں ماضی کا سفر کرتا ہے ۔اس ناول کے کردار محض افراد نہیں بلکہ ایک زوال پذیر تہذیب کے نمائندے ہیں۔ یہ محض سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک دور اور انمول اقدار کا ایسا الوداع ہے جس کے بعد واپسی ممکن نہیں۔