سجاد ظہیر کا ناولٹ لندن کی ایک رات ترقی پسند ادب کا ایک اہم ناولٹ ہے جو 1938ء میں شائع ہوا۔ یہ اردو فکشن کا پہلا تجرباتی ناولٹ بھی سمجھا جاتا ہے جس میں مصنف نے محض کہانی سنانے کی بجائے کرداروں کے خیالات، احساسات اور مکالموں کے ذریعے اُس زمانے کے سیاسی، سماجی اور فکری رجحانات کو اجاگر کیا ہے۔ ناول کا پس منظر لندن ہے جہاں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کی زندگی، تنہائی، احساسِ کمتری، وطن سے وابستگی اور ترقی پسند نظریات کے اثرات کو نہایت حقیقت پسندی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ناولٹ شہر کی چمک دمک کے پیچھے چھپی حقیقتوں اور معاشرتی تضادات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔